Thursday, February 10, 2011

تیرے آفاق بھی ہیں حیرت میں
رمز کیا ہے مری حقیقت میں

تو کہاں سے پکارتا ہے مجھے
میں تجھے ڈھونڈتا ہوں خلقت میں
...
ہم نہ اپنے دیے بجھائیں گے
کچھ بھی ہو رات کی مشیت میں

کوئی پہرا نہیں فصیلوں پر
شہر اندر سے ہے حراست میں

ایک دنیا ہے تیرے ساتھ مگر
کس کا دل ہے تری رفاقت میں

منہ چھپائے پھریں گے سورج سے
جو ستارے ہیں شب کی خلعت میں

سن صدا ممکنات کی یوسف
کھول پر آسماں کی وسعت میں

1 comment:

Anonymous said...

Really Out Class